امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور علمی ترقی اور پیشرفت کا دورتھا 

امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور علمی ترقی اور پیشرفت کا دورتھا 

امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے کو علمی اِرتقاء اور ترقی کا زمانہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ عوام و خواص ہر ایک اس زمانے میں تحصیلِ علم کی طرف متوجہ تھا۔ اور اس زمانے کا ماحول کاملاً اسرارِ قرآنی کی تبلیغ اور انکشاف کے لئے سازگار تھا۔ اِس علمی ماحول ہی کی وجہ سے امام کو اسرارِ علومِ دینی کے حتی الوسع اِنکشاف کا موقع ملا۔ آپ کے حکیمانہ کلمات علمی وطبی نظریات اور دینی بیانات کی پُرجوش نہر تھی جو تشنگانِ معرفت کو سیراب کرتی چلی جا رہی تھی۔ تشنگانِ دانش اور بیمارانِ جہل دور دروازے سے آتے اور جہالت کی بیماری سے شفایاب ہوتے۔ مورخین آپ سے روایت کرتے اور دانشور کتابی صورت میں آپ کے فرمودات جمع کرتے تھے حتیٰ کہ حفاظ اور محدثین جب کچھ بیان کرتے تو حوالہ دیتے کہ امام جعفر صادق نے یہ ارشاد فرمایاہے، اب ہم آپ کے دریائے حکمت کے چند قطرے اور گلستانِ طب کے پھول نہایت اِختصار سے پیش کر رہے ہیں۔ مُعارفِ اِمام از کتب غیر نیست جو لوگ عرب کے ماحول اور عرب کی تاریخ سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ معارف و علوم امام آپ کے ہمعصر عقلاء کی تعلیمات سے بالکل مختلف ہیں لہذا ظاہر ہوا کہ آپ نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کسی اُستاد کے سامنے زانوئے اَدب تہہ کیا۔ آپ کا علم۔ عِلمِ نبوت کا ایک پر تو ہے جس کا اَصل سرچشمئہِ وحی اور پیغامِ خداوندی ہے۔ اسی سر چشمہ اور علم نبوتی کا دھارا حضرت علی علیہ السلام ہیں جن سے فرزندے بہ فرزندے امام جعفر صادق علیہ السلام تک بہ فیضانِ وحی پہونچتا ہے۔ مختصر یہ کہ معارفِ جعفری، اَسرار قرآنی کا ایک راز۔ انوارِ نبوت کا ایک نور۔ فیضانِ امامت کا ایک روشن فیض ہے۔ اَب ہم اپنے دعوے کے ثبوت میں حضرت امام جعفر صادق کے کچھ طبی مناظرات نقل کر رہے ہیں اور فیصلہ قارئین و ناظرین کی عقل سلیم پر چھوڑتے ہیں۔ طبِ ہندی:۔ طِبِ ہندی ’تمام بیماریوں کی جڑ اور اصل کثافت ِ خون کو ٹھہراتی ہے اور مُصفی خون اَدویہ سے اسکا علاج کرتی ہے۔ بیماریاں اگرچہ مختلف ہوتی ہیں مگر وہ صرف تصفیئہ خون سے سب کا علاج کرتی ہے۔ اَطباء ہندی مادہِ فاسد سے قطع نظر کرکے تصفیئہ خون کی کوشش کرتے ہیں۔ کثیف خون کی کثافت کے دُور کرنے کی طرف تو متوجہ نہیں ہوتے بلکہ تازہ اور نیا پاک خون پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔ طبِ ہندی میں پرہیز زیادہ تر فاقہ کی صورت میں ہے۔ مگر اسلام میں پرہیز صرف ان چیزوں سے ہے جو مُضر ہوں۔

منبع: تبیان

پربازدیدترین

Image

The New Republic

The New Republic is a liberal American magazine of commentary ... ویکی پدیا
Image

با 10 میلیاردر برتر فناوری آشنا شوید

بخشی از فهرست ثروتمندترین افراد جهان مربوط به کارآفرینان ب ... باشگاه خبرنگاران

جدیدترین ها

Image

روابط پكن و توكیو بار دیگر متشنج شد

وزارت دفاع ژاپن اعلام كرد كه نقض حریم هوایی این كشور توسط چین ... ایلنا
Image

تیم های سایپا و استقلال خوزستان جریمه شدند

کمیته انضباطی فدراسیون فوتبال رای خود را درباره تخلفات دیدار د ... ایلنا
Image

به دلالان در مورد پدیده‌های اردبیل هشدار می‌دهم

پس از توافق باشگاه پرسپولیس با خانواده بازیکن ۹ ساله اردبیلی و ... ایلنا
Image

شهرداری‌ها با لودرها آثار را از بین می‌برند/ مدیران ارشد دنبال برج‌سازی هست ...

ایلنا: رییس سازمان میراث‌فرهنگی، صنایع‌دستی و گردشگری در دیدار ... ایلنا

پربازدیدها در این موضوع

Image

The New Republic

The New Republic is a liberal American magazine of commentary ... ویکی پدیا
Image

برای خانه‌دار شدن چقدر باید هزینه کرد؟+جدول قیمت

با توجه به لزوم تشکیل خانواده توسط جوانان، یکی از ملزومات و مه ... خبرگزاری میزان
Image

کشیک نوروزی 4 شعبه شورای حل اختلاف استان تهران

کشیک نوروزی در 4 شعبه شورای حل اختلاف استان تهران پاسخگوی مطا ... خبرگزاری میزان
Image

دیزاین اتاق پذیرایی و نشیمن منزل

گالری عکس نمونه های جدید از دیزاین داخلی اتاق پذیرایی و نشیمن ... آکاایران
Image

چراغ سبز ارشاد به ویدئو

ارائه طرح استفاده قانونی از ویدئو به شورای‌عالی انقلاب فرهنگی ... همشهری آنلاین

سایر مطالب

بالا
Powered by TayaCMS